بنگلورو،10؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک میں 224 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹنگ کا عمل شام چھ بجے ختم ہو گیا اور الیکشن کمیشن نے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ای وی ایم کو سیل کرنے کا عمل شروع کردیا جس کے ساتھ ہی تمام امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہو گئی ہے۔ الیکشن میں جو خاص بات نوٹ کی گئی وہ یہ ہے کہ پہلی بار ووٹ دینے والوں سمیت بزرگوں نے الیکشن میں کافی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بی جے پی، کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ ووٹنگ مکمل ہوئی اور الیکشن کمیشن کے مطابق شام 6 بجے تک تقریباً 66.30 فیصد ووٹنگ ٹرن آوٹ رہا۔
انتخابات کو لے کر کہا جارہا ہے کہ بی جے پی حکومت اینٹی انکمبنسی کا سامنا کر رہی ہے، اس لیے پرائم منسٹر نریندر مودی سمیت بی جے پی کے کئی نیشنل رہنماوؑں نے ریاستی اسمبلی انتخابات کے لیے متعدد دورے اور بڑے روڈ شو کے ساتھ اپنی پارٹی کے لئے تشہیر ی مہم چلائیں۔ اب بی جے پی نریندر مودی کے نام پر اقتدار میں واپسی کا خواب دیکھ رہی ہے، جب کہ کانگریس 2024 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل مضبوط واپسی کا ارادہ رکھتی ہے۔ذرائع کے مطابق کرناٹک اسمبلی انتخابات کے لیے آج پولنگ کے دوران کم از کم تین مقامات سے پرتشدد واقعات کی اطلاع ملی ہے اور ایک جگہ ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کو مشتعل ووٹروں نے توڑ دیا ہے۔ تشدد کے واقعات وجئے پورہ ضلع کے باسوانا باگے واڑی تعلقہ، بنگلورو کے پدمنابھ نگر حلقہ، بلاری ضلع کے سنجیواریانا کوٹ سے موصول ہوئے ہیں۔
کرناٹک میں اس بار بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ زیادہ تر سروے میں کانگریس کو آگے دکھایا گیا ہے جبکہ بعض نے بی جے پی کو آگے دکھایا ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ 13 مئی کو جب ووٹنگ کی گنتی ہوگی تو کس طرح کے نتائج نکلیں گے اور ریاست کرناٹک میں کس کی حکومت بنے گی۔